حالیہ دنوں ایوانِ بالا میں جو سب سے زیادہ پرجوش اور توانا آواز گونجتی ہے جو عوام کے جذبات اور مسائل کی صحیح ترجمانی کرتی سنائی دیتی ہے وہ محترم جناب سینٹر مشتاق احمد خان صاحب کی ہے۔
موجودا سیاسی تناظر میں جہاں حکومتی اور حزب اختلاف کے نمائندے عوامی مسائل اور ان کی مشکل تر ہوتی زندگی سے لاتعلق نظر آتے ہیں جہاں حکومتی ایوانوں میں عوامی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے کوئی عملی کام ہوتا دکھائی نہیں دیتا ایسے میں عوامی مسائل ہوں یا پھر اسلامی نظریات سے متصادم قوانین سینٹر مشتاق احمد واحد شخصیت ہیں جو اپنی ذمداری سے انصاف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مشتاق احمد خان کا آبائی تعلق ضلع صوابی کے گاؤں شیخ جانا سے ہے۔
شیخ جانا جسکا پرانا نام رام جانا تھا تقسیم برصغیر سے پہلے یہاں ہندؤ کی اکثریت تھی شیخ جانا مرکز صوابی سے 15 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کی سرحدیں کرنل شیر کلی (نوی کلی)، سپن کنری، شیوا کلی، اسوٹا شریف اور منصب دار سے ملتی ہیں۔
مشتاق احمد نے صوابی کے سرکاری ہائی سکول منصب دار سے میٹرک کیا اور بعد میں پشاور یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کیا۔
1997 میں جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کے صوبائی سربراہ، 1999 میں مرکزی جنرل سیکرٹری اور 2002 طلبہ تنظیم کے سرگرم سربراہ رہے۔  
2002 اور 2003 میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
2003 میں وہ جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور 2006 تک اس عہدے کے پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ 2015 تک جماعت کے صوبائی نائب امیر رہے۔
جب سراج الحق کو پارٹی کا مرکزی امیر بنایا گیا تو انہیں صوبائی امیر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ انہوں نے ایک بار اپنے آبائی ضلع صوابی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
مشتاق احمد خان 2018 کے پاکستان کے سینیٹ الیکشن میں خیبر پختونخواہ سے جنرل سیٹ پر جماعت اسلامی پاکستان کے امیدوار کے طور پر سینیٹ آف پاکستان کے لیے منتخب ہوئے تھے، انہیں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں ان کی پارٹی کے اراکین کے 7 ووٹوں کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے 12 مارچ 2018 کو بطور سینیٹر حلف اٹھایا۔
اکتوبر 2021 میں وہ مسلسل تیسری بار جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اپریل 2022 میں سینیٹ آف پاکستان میں ان کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث پارٹی کے صوبائی امارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ان کی جگہ محمد ابراہیم خان جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر بنے۔



سینیٹر کی حیثیت سے اپنے دور میں وہ ایوانوں کی کم از کم 6 ذیلی کمیٹیوں کے رکن رہے ہیں۔
جن میں ڈیوولوشن (چیئر پرسن کمیٹی)
اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ٹرسٹ (ترمیمی) بل، 2020
ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی
"بین الصوبائی رابطہ کمیٹی
فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ
پارلیمانی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ مائینرٹیز (اقلیتوں کو جبری تبدیلیوں سے بچانا)۔

فروری 2022 میں انہیں سینیٹ کے فلور پر تقریر کرنے والے ٹاپ 5 سینیٹرز میں شامل کیا گیا تھا۔
دسمبر 2018 میں، بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے رکن کے طور پر مشتاق خان نے کہا کہ تقریباً 25 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے لیکن حکومت کا کردار اس بارے میں مایوس کن ہے صرف کاغذی کارکردگی پر فخر کرتی رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کو ایران کی سرحد سے اسمگل کیا جا رہا ہے۔
اگست 2020 میں، مشتاق خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرپرسن کے طور پر، پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے کیسز سمیت اہم معاملات کو اٹھایا۔
جون 2022 میں، خان نے دعویٰ کیا کہ قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی (PCNS) کے رکن ہونے کے باوجود، انہیں کمیٹی کے اجلاسوں میں مدعو کیے جانے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا کہ معاشرے کے اختلافی دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات کو عام کیا جائے۔
مشتاق احمد کی پارلیمانی کارکردگی تو نہایت شاندار ہے اسکے علاوہ عوامی سطح پر سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں جماعت اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں حالیہ سیلاب کی صورتحال میں چاہے وہ ایوانِ بالا کا فلور ہو یا پھر عملی جدوجہد ہو ہر جگہ محترک کردار ادا کیا ہے۔
سینٹر مشتاق احمد کے کردار کو چاہے وہ حکومت ہو یا اپوزیشن سب ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مشتاق احمد جیسے باکردار لوگوں کی خدمات کی ہر سطح پر پذیرائی کی جائے اور خاص طور میڈیا کو کرپٹ سیاست دانوں اور ان کی فضولیات کو کوریج دینے کے بجائے مشتاق احمد جیسے صالح اور ایماندار سیاستدان کے تعمیری اور مثبت کاموں کی تشہیر کرنا چاہیے تاکہ عوام کی سیاسی تربیت ہوسکے اور وہ دیانتدار قیادت کا انتخاب کر سکیں جو حقیقتاً عوام کے مسائل حل کر سکیں۔